حج بیت اللہ کے ارکان و شرائط

حج بیت اللہ کے ارکان و شرائط اور واجبات پر ایک گہری نظر بہت ضروری ہے 

عالمی اخبار ریسرچ یونٹ

سوال نمبر ُُُُُ ُُُُُ 1: حج میں ارکان یعنی فرض کتنی چیزیں ہیں؟

جواب :حج میں یہ دس چیزیں فرض ہیں:

ا۔ احرام کو یہ شرط ہے۔ ۲۔وقوفِ عرفہ۔۳۔طوافِ زیارت کا اکثر حصہ یعنی چار پھیرے یہ ۲،۳ دونوں چیزیں رکن مانی جاتی ہیں۔ ۴۔ان چاروں پھیروں میں طواف کی نیت۔ ۵۔ترتیب یعنی پہلے احرام ہو پھر وقوف عرفہ پھر طوافِ زیارت۔۶۔ ہر فرض کا اپنے وقت پر ہونا یعنی وقوفِ عرفات کا نویں ذالحجہ کے آفتاب ڈھلنے سے دسویں کے صبحِ صادق سے پیشتر تک کسی وقت میں ہو جانا، اس کے بعد طواف کرنا اس کا وقت وقوف کے بعد سے آخر عمر تک ہے۔ ۷۔ وقوف کا عرفات میں ہونا۔ ۸۔طواف کا مسجد الحرام میں ہونا۔۹۔طواف کا اپنے وقت میں ہونا۔۱۰۔ وقوف سے پہلے جماع سے بچنا۔

ان دس میں سے ایک بھی رہ جائے تو حج نہ ہوگا۔ (درمختار ، ردالمحتار وغیرہ)

سوال نمبر ُُُُُ ُُُُُ 2: حج کے واجبات کتنے ہیں؟

جواب : ۱۔ میقات سے احرام باندھنا۔ ۲۔صفا مروہ کے درمیان دوڑنا اس کو سعی کہتے ہیں۔ ۳۔سعی کو ہ صفا سے شرو ع کرنا۔۴۔اگر عذر نہ ہو تو پیدل سعی کرنا۔۵۔دن میںوقوفِ عرفہ کرنے والے کو آفتاب کے بعد تک انتظار کرنا۔۶۔سعی کا کم از کم طواف کے چار پھیروں کے بعد ہونا۔۷۔وقوف میں رات کا کچھ جزو آجانا۔۸۔عرفات سے واپسی پر امام کے ساتھ کوچ کرنا۔۹۔مزدلفہ میں ٹھہرنا۔۱۰۔مغرب و عشاء کی نماز کا وقتِ عشا ء میں مزدلفہ میں آکر پڑھنا۔ ۱۱۔دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرۃ العقبہ پر اور گیارھویں کو تینوں جمروں پر رمی کرنا۔ ۱۲۔جمرۃ العقبہ کی رمی پہلے دن ، حلق سے پہلے ہونا۔۱۳۔ہر روز کی رمی کا اسی دن ہونا۔۱۴۔حلق(سر منڈانا) تقصیر(بال کترانا) ۔۱۵۔حلق یا تقصیر کا ایامِ نحر میں اور ۔۱۶۔خاص زمینِ حرم میں ہونا۔ ۱۷۔قران اور تمتع توالے کو قربانی کرنااور۔۱۸۔اس قربانی کا حرم اور ۔۱۹۔ایامِ نحر میں ہونا، حلق سے پہلے اور رمی کے بعد۔ ۲۰۔طوافِ افاضہ یعنی طوافِ زیارت کا اکثر حصہ ایامِ نحر میں ہونا۔۲۱۔طواف کا حطیم کے باہر ہونا۔۲۲۔دا ہنی طرف سے طواف کرنا۔۲۳۔عذر نہ ہو تو پاپیا دہ (پاؤں سے چل کر) طواف کرنا۔ ۲۴۔طواف کرنے میں نجاستِ حکمیہ سے پاک ہونا یعنی جنب اور بے وضو نہ ہونا۔۲۵۔طواف کرتے وقت سترِ عورت کرنا۔۲۶۔طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا۔۲۷۔رمی جمار، ذبح اور حلق اور طواف میں ترتیب ہونا۔۲۸۔طوافِ صدر یعنی میقات سے باہر رہنے والوں کے لیے رخصت کا طواف کرنا۔۲۹۔وقوفِ عرفہ کے بعد سر منڈانے تک جماع نہ ہونا۔۳۰۔احرام کے ممنوعات مثلاً سلا ہوا کپڑا پہننے یا منہ اور سر چھپانے سے بچنا۔ (درمختار، ردالمحتار وغیرہ)

سوال نمبر ُُُُُ ُُُُُ 3: حج کی سنتیں کیا کیا ہیں؟

جواب : ۱۔ طوافِ قدوم۔ ۲۔طواف کا حجرِ اسود سے شروع کرنا۔ ۳۔طوافِ قدوم یا طوافِ فرض میں رمل کرنا۔۴۔صفا مروہ کے درمیان جو دو میل اخضر ہیں ان کے درمیان دوڑنا۔۵۔امام کا مکہ میں ساتویں کو۔۶۔عرفات میں نویں کو اور۔۷۔منیٰ میں گیارہویں کو خطبہ پڑھنا۔۸۔آٹھویں کی فجر کے بعد مکہّ سے روانہ ہونا کہ منیٰ میں پانچ نمازیں پڑ لی جائیں۔۹۔نویں رات منیٰ میں گزرنا۔۱۰۔آفتاب نکلنے کے بعد منیٰ سے عرفات روانہ ہونا۔ ۱۱۔وقوفِ عرفہ کے لیے غسل کرنا۔ ۱۲۔عرفات سے واپسی میں مزدلفہ میں رات کو رہنا۔۱۳۔آفتاب نکلنے سے پہلے یہاں سے منیٰ کو چلے جانا۔۱۴۔دس اور گیارہ کے بعد جو دونوں راتیں ہیں ان کو منیٰ میں گزارنا۔۱۵۔ابطح یعنی وادیٔ محصب میں اترنا یعنی منیٰ سے مکہّ معظمہ کو جاتے ہوئے اگرچہ تھوڑی دیر کے لیے ہو یہاں رکنا وغیر ذالک۔(عامۂ کتب)

سوال نمبر ُُُُُ ُُُُُ 4: حج واجب ہونے کے لیے کتنی شرطیں ہیں؟

جواب : حج واجب ہونے کی آٹھ شرطیں ہیں جب تک وہ سب نہ پائی جائیں حج فرض نہ ہوگا۔ا۔مسلمان ہونا ۔دارالحرب میں ہو تو اسے یہ معلوم ہونا کہ اسلام کے فرائض میں حج ہے۔ ۳۔بالغ ہونا، نابالغ نے حج کیا تو وہ حجِ نفل ہوا یہ حج، حجِ فرض کے قائم مقام نہیںہو سکتا ۔۴۔عاقل ہونا مجنون پر حج فرض نہیں۔۵۔آزاد ہونا، یا باندی غلام پر حج فرض نہیں۔۶۔تندرست ہونا کہ اعضاء سلامت ہوں، انکھیارا ہو، اپاہج اور فالج والے اور بوڑھے پر جو کہ سواری پر خود نہ بیٹھ سکتا ہو حج فرض نہیں۔۷۔سفر خرچ کا مالک اور سواری پر قادر ہونا یعنی اس کے پاس سواری نہ ہو تو اتنا مال ہو نا کہ کرایہ پر لے سکے۔۸۔حج کے مہنیوں میں تمام شرائط کا پایا جانا۔

سوال نمبر ُُُُُ 5: وجوب ادا کی شرائط کیا ہیں؟

جواب :شرائط ادا یعنی وہ شرائط کہ جب پائی جائیں تو خود حج کو جانا ضروری ہے اور سب نہ پائی جائیں تو خودجانا ضروری نہیں بلکہ دوسرے سے حج کر اسکتا ہے یا وصیت کر جائے جو یہ ہیں۔ ۱۔ راستہ میں امن ہونا۔۲۔عورت کو مکہّ تک جانے میں تین دن یا زیادہ کا راستہ ہو (یعنی پاپیادہ مطابق معمول ) تو اس کے ہمراہ شوہر یا محرم کا ہونا خواہ وہ عورت جوان ہو یا بڑھیا اور محرم سے مراد وہ مرد ہے جس سے ہمیشہ کے لیے اس عورت کا نکاح حرام ہے مثلاً بیٹا، بھائی، سُسر ، داماد وغیرہ۔ ۳۔ جانے کے زمانہ میں عورت عدت میں نہ ہو۔۴۔قید میں نہ ہو مگر کسی حق کی وجہ سے قید میں ہو اس کے ادا کرنے پر قادر ہو تو یہ عذر نہیں اور بادشاہ اگر حج کے جانے سے روکتا ہے۔ تو یہ عذر ہے۔ (درمختار وغیرہ)

سوال نمبر ُُُُُ ُُُُُ 6: صحتِ ادا کے لیے کتنی شرطیں ہیں؟

جواب :صحتِ ادا کے لیے نو شرطیں ہیں : اگر وہ نہ پائی جائیں تو خودحج نہیں:

۔۱۔اسلام۔۲۔ احرام۔۳۔زمانۂ حج۔۴۔مکان، طواف کی جگہ مسجد الحرام شریف ہے ، وقوف کے لیے عرفات و مزدلفہ کے لیے منیٰ ، قربانی کے لیے حرم یعنی جس فعل کے لیے جو جگہ مقرر ہے وہ وہیں ہوگا۔ ۵۔تمیز۔۶۔عقل ، جس میں تمیز نہ ہو جیسے نا سمجھ بچہ یا جس میں عقل نہ ہو۔ جیسے مجنون، یہ خود وہ افعال نہیں کر سکتے جن میں نیت کی ضرورت ہے مثلاً احرام یا طواف بلکہ ان کی طرف سے کوئی اور کرے اور جس فعل میں نیت شرط نہیں جیسے وقوفِ عرفہ وہ یہ خود کر سکتے ہیں۔۷۔فرائض حج کا بجالانا مگر جبکہ عذر ہو۔۸۔احرام کے بعد اور وقوف سے پہلے جماع نہ ہونا اگر ہوگا، حج باطل ہو جائے گا۔۹۔جس سال احرام باندھا اسی سال حج کرنا۔

سوال نمبر ُُُُُ ُُُُُ 7: حجِ فرض ادا ہونے کے لیے کتنی شرطیں ہیں؟

جواب : حجِ فرض ادا ہونے کے لیے نو شرطیں ہیں۔ ا۔اسلام۔۲۔مرتے وقت تک اسلام ہی پر رہنا۔۳۔عاقل ہونا۔۴۔بالغ ہونا۔۵۔آزاد ہونا۔۶۔اگر قادر ہو تو خود ادا کرنا۔۷۔نفل کی نیت نہ ہونا۔۸۔دوسرے کی طرف سے حج کرنے کی نیت نہ ہونا۔۹۔فاسد نہ کرنا۔ (ان امور کی تفصیل بڑی کتابوں میں مذکور ہے علماء سے دریافت کریں)

سوال نمبر ُُُُُ ُُُُُ 8: حج ادا کرنے کے کتنے طریقے ہیں؟

جواب :حج تین طرح کا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ نراحج کرے عمرہ اس کے ساتھ نہ ملائے اسے افراد کہتے ہیں اور حاجی کو مفرد، دوسرا یہ کہ میقات سے احرام باندھتے وقت صرف عمرے کی نیت کرے اور افعال عمرہ سے فارغ ہو کر حلال ہو جائے پھر مکہّ معظمہ میں حج کے لیے دوبارہ احرام باندھے اسے تمتع کہتے ہیں اور حاجی کو متمتع تیسر ا یہ کہ زمانۂ حج میں حج و عمرہ دونوں کی یہیں سے نیت کرے اور حج و عمرہ دونوں کو ایک احرام سے ادا کرے اور یہ سب سے افضل ہے اسے قرآن کہتے ہیں اور حاجی کو قارِن۔

سوال نمبر ُُُُُ ُُُُُ 9: عمرہ کسے کہتے ہیں؟

جواب : احرام کی حالت میں خانۂ کعبہ کا طواف اور طواف کے بعد صفا و مروہ پر سعی ان دونوں کے مجموعہ کا نام عمرہ ہے اس کے لیے کوئی وقت معین نہیں بہ خلاف حج کہ اس کا وقت مقرر ہے کسی اور وقت میں نہیںہو سکتا۔

سوال نمبر ُُُُُ 10: اَشْہرُ حج کسے کہتے ہیں؟

جواب :شوال اور ذی قعد کے پورے پورے مہینے اور ذی الحجہ کے پہلے۔ دس (۱۰)دن اشہرِ حج کہلاتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.